لفظ “ہیلو” کا استعمال کیسا ہے

آج کل یہ سوال اکثر لوگوں کے ذہنوں میں گردش کر رہا ہے کہ فون پر لفظ “Hello” کہنے کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ کیونکہ آج کل کثرت سے یہ بات انٹرنیٹ اور موبائل پیغامات کے ذریعہ پھیل رہی ہے کہ “ہیلو” کہنا جائز نہیں ہے، ان پیغامات میں کہا جا رہا ہے کہ یہ لفظ، “Hell” ، “Hello” سے نکلا ہے اور“Hell” انگریزی زبان میں جہنم کو کہتے ہیں ،اس لیے “Hello” کا مطلب ہے جہنمی ۔لہٰذا اس سوال کے جواب سے پہلے یہ تحقیق ضروری ہے کہ اس لفظ کے لغوی معنی کیا ہیں؟ اس کا مادّہ اشتقاق کیا ہے؟ اور اس کا استعمال کن کن مواقع پر کن معنی میں ہوتا ہے؟

تحقیق سے معلوم ہوتا ہے کہ لفظِ “ہیلو “ محض ایک تسلیماتی لفظ(Greeting) ہے ،اور اسی حیثیت سے آج کل معاشرے میں رائج ہے،اگرچہ دیگر معانی میں بھی اس کا استعمال ہے، مثلاً حیرانگی یا غصہ کے اظہار کے لیے یا کسی کی توجہ حاصل کرنے کے لیے بھی اس کا استعمال انگریزی زبان میں عام ہے ،اسی طرح گفتگو کی ابتداء میں حال چال پوچھنے کی غرض سے بھی اس کا استعمال کثرت سے ہوتا ہے۔ لیکن ان میں کسی جگہ بھی اس کا استعمال بد دعائیہ کلمہ کے طور پر نہیں ہوتا اور نہ ہی اس کا مطلب ان جگہوں میں سے کسی بھی جگہ”جہنمی”لیا جاتا ہے۔چناچہ بنیادی طور پر اگر دیکھا جائے تو یہ لفظ محض ایک تسلیماتی لفظ ہے،کوئی بد دعائیہ کلمہ نہیں ہے۔مشہور انگریزی لغات مثلاً “آکسفورڈ ڈکشنری” ،”چیمبر ڈکشنری” ،”کیمبریج ڈکشنری”اور “مریم ویبسٹر ڈکشنری” میں اس لفظ سے متعلق یہی تفصیلات درج ہیں،جو ابھی بیان کی گئی ہیں،اور کم و بیش یہی تفصیلات دیگر انگریزی ڈکشنریوں موجود ہے

لفظِ  “Helloکی ابتداء سے متعلق بہت سے لوگوں کی رائے یہ ہے کہ اس لفظ کا موجِد مشہور سائنسدان تھومس الوا ایڈیسن (Thomas Alva Edison)  ہے،اور اس نے یہ لفظ فون کال کے شروع میں ابتدائی تسلیماتی (greeting)کلمات کے طور پر متعارف کروایا،جبکہ دوسری طرف ٹیلیفون کے موجد گراہم بیل کا اصرار یہ تھا کہ ابتدائی کلمہ “ahoyہونا چاہیئے،یہ ساری تفصیل ویلیم گرمز” WILLIAM GRIMESنے نیو یارک ٹائمز میں ۵ مارچ ۱۹۹۲ء میں اپنےشائع ہونے والے مضمونThe great `Hello` mystery is solved”  میں بیان کی ہے۔

بعض حضرات کا کہنا ہے کہ تھومس الوا ایڈیسن اس کا موجد نہیں ہے جیسا کہ مشہور کتاب” Memories of my ghost brother”  کے مصنّف “Heinz Insu fenkl” نے اپنے ایک مضمون “Heaven and Hello” میں بیان کیا ہے (یہ مضمون realms of fantasy نامی میگزین میں 2001 کو شائع ہوا تھا)-

لیکن مطالعہ سے جو بات سامنے آئی ہے اس سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اگرچہ تھومس ایڈیسن اس کا موجد نہ ہو مگر کم سے کم فون پر اس کو متعارف کروانے والے وہی ہیں بہر حال اس کے بعد سے اس لفظ کو کافی شہرت ملی اور اب یہ لفظ بلا کسی مذہب اور قوم کی تخصیص کے تھوڑے بہت لہجے کے فرق کےساتھ دنیا بھر میں تسلیماتی لفظ کے طور پر مشہور ہے،خصوصاً ٹیلفون کال پر ابتدائی کلمات کے طور پر اس کی شہرت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے۔

اور جہاں تک بات اس لفظ کے مادّہ اشتقاق کی ہے تو اس کے بارے میں اکثر لغت کی مشہور کتابوں میں درج ہے کہ یہ Hollo، Hallo، Hollaیا Hullo کی بگڑی ہوئی شکل ہے،اور یہ الفاظ اپنی اصل وضع کے اعتبار سے توجہ حاصل کرنے کے معنی میں آتے ہیں ، جیسا کہ اوپر انگریزی زبان کی چند مشہور ڈکشنریز کی عبارات سے واضح ہے، نیز علم اشتقاق ہی سے متعلق “رابرٹ کیبرنہارٹ” کی مشہور ڈکشنریChamber dictionary of etymology”  کی تصریح سے بھی یہی بات واضح ہوتی ہے،اس ڈکشنری کی عبارت یہ

البتہ “Heinz Insu fenkl” کا(جس کا ذکر پیچھے آیا ہے) مضمون اس سلسلہ میں خاص دلچسپی کا حامل ہے جس کا لب لباب یہ ہے کہ اس نے اپنے مذکورہ مضمون ہی میں اس مادّہ اشتقاق کی نفی بعض علمِ ا شتقاق کے ماہرین کے حوالے سے کی ہے، لیکن بعض کی رائے لازمی بات ہے وہ اعتماد حاصل نہیں کر سکتی جو اکثریت کی رائے کو حاصل ہے۔نیز انہوں نے یہ بھی لکھا ہے کہ بعض حضرات نے Helloکے لفظ میں Hellآنے کی وجہ سےیہ کوشش بھی کی کہ اس کی جگہ “HeavenO” کر دیا جائے ،مگر ساتھ ساتھ یہ بھی کہا کہ ان حضرات کی یہ کوشش اور ذہنیت اس لفظِ Helloکی تاریخ اور حقیقت سے ناواقفیت کی بنا پر تھی۔

اس کے بعد موصوف نے اس لفظ  Hellکے بہت سے معانی بیان کئے ، جن میں ایک معنی گریک بائبل(Greek bible) کے حوالےسے”اَن دیکھا (Unseen) بھی بیان کیے ،اور پھر لفظ Hello کی دوردرازکی تاویلات اور ترکیبات سے بعض ایسے معنی بھی بیان کیے ہیں جن میں جہنم کے معنی پائے جاتے ہیں، البتہ اس کے معنی “جہنمی” ہونا پھر بھی کہیں بیان نہیں کیا،مگر اس طرح کی دور دراز تاویلات سےتو سینکڑوں الفاظ کے غلط معنی نکالے جا سکتے ہیں ،لیکن حتمی بات وہی ہوگی جو لغت اور علمِ اشتقاق کے ماہرین کی رائے ہوگی ۔پھر اپنے مضمون کے آخر میں انہوں نے ترجیح اسی بات کو دی ہےکہ بفرض محال اگر Hello کو Hell سے کسی بھی طرح متعلق مانا جائے تو اس کے معنی اَن دیکھی چیز کے ہوں گے،اور اس کی مناسبت ٹیلفون سے یہ ہوگی کہ اس میں بھی صرف انسان کی آواز سنائی دیتی ہے،انسان دکھائی نہیں دیتا۔

خلاصہ اس ساری بحث کا یہ ہوا کہ لفظ “Helloمحض ایک تسلیماتی لفظ  (Greeting)ہے،اور اسی میں اس کا استعمال شائع ہے،اس کےمعنی “جہنمی” کسی بھی طور پر درست نہیں ہے۔اس لیے فی نفسہ فون پر لفظ “Helloکا استعمال جائز ہے ،گناہ نہیں ہے۔

البتہ بحیثیتِ مسلما ن ہمارے شایانِ شان یہ ہے کہ لفظ “Helloکے بجائے “السلام وعلیکم” کہا جائے اور اسی کی ترویج کی جائے تو ہر لحاظ سے بہتر ہے،اس لفظ کو ادا کرنے سے سنت پر عمل کا ثواب بھی ملے گا اور نیز یہ لفظ دوسرے مسلمان کے حق میں ایک بہترین دعا بھی ہے کہ “اللہ تم پر سلامتی نازل کرے” ،نیز حدیث میں آپ ﷺ نے فرمایا کہ “اپنے درميان سلام کو پھیلاؤ” اسی طرح ایک اور حدیث میں حضرت براء ابن عازبؓ فرماتے ہیں کہ آپﷺ نے ہمیں سات چیزوں کا حکم دیا اور سات چیزوں سے منع فرمایا،ان سات چیزوں میں سے جن کا حکم آپﷺ نے فرمایا ایک یہ تھی کہ “سلام کو پھیلاؤ”۔ایک اور حدیث میں آپﷺ نے فرمایا کہ “سلام،کلام سے پہلے ہے” یعنی پہلے سلام کرو اور پھر کلام کرو،اسی طرح ایک اور حدیث میں آپﷺ نے فرمایا کے “جب تم میں سے کوئی اپنے بھائی سے ملے تو اسے چھاہیئے کہ اس(بھائی )کو سلام کرے”-

ایک اور موقع پر آپﷺ سے پوچھا گیا کہ اسلام کا بہترین عمل کون سا ہے؟تو آپﷺ نے جواب میں فرمایا کہ “کھانا کھلاؤ اور سلام کرو ایسے شخص کو بھی جس کو تم جانتے ہو اور ایسے شخص کو بھی جس کو تم نہیں جانتے”۔

نیز صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے تمام سنتوں کی طرح اس سنت پر بھی عمل کرنے کا خاص اہتمام فرمانا ثابت ہے، چنانچہ حضرت عبداللہ بن عمر ؓ کے بارے میں آتا ہے کہ وہ صرف اسی ارادے سے بازار تشریف لے جاتے کہ جو ملے اسے سلام کریں۔

لہٰذا اگرچہ فون پر Hello کہنا شرعاً جائز ہے، لیکن السلام علیکم جیسی عظیم سنّت،نیکی اور دعا کو چھوڑ کر ایک ایسے لفظ کو اپنے معمولات میں شامل کرلینا جس کا کوئی اخروی فائدہ نہ ہو ،ایک مسلمان کی شان کے خلاف ہے،اور بحیثیتِ مسلمان حضورِ اقدس ﷺ کی تعلیمات ، صحابہ کرامؓ کا عمل اور شعائرِ اسلام ہر لحاظ سے ہمارے لیے مقدم اور محترم ہے،اور حقیقت یہ ہے یہ کلمہ اللہ ربّ العزت کی طرف سے بڑا انعام ہے جو امّتِ محمدیہ کو دیا گیا ہے کہ محض ایک تعارفی اور کلام کی ابتداء کے کلمات کو بھی نہ صرف یہ کہ عبادت بنا دیا بلکہ مستقل ایک ایسی دعا بنا دیا جس کا ہر انسان ہر وقت محتاج ہے ،لہٰذا بہترین بات یہ ہے کہ “Helloکی جگہ السلام علیکم کہنے کی عادت ڈالی جائے اوراس کا جواب وعلیکم السلام کہہ کر دیا جائے ۔(مأخذہ التبویب:16/1622)

یہ تمام تفصیل جامعہ دارالعلوم کراچی کے فتوی نمبر(16/1622) سے لی گئی ہے جو حضرات شیخین یعنی مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد رفیع عثمانی صاحب اور مفتی محمد تقی عثمانی صاحب مدظلہما کے دستخط سے جاری ہواہے۔ مکمل فتوی اس لنک سے ڈاؤن لوڈ کر سکتے ہیں:

https://ia601507.us.archive.org/20/items/Hello_201506

گاہک اور رزق

پچانوے فیصد سے زیادہ امریکی رات کا کھانا شام سات بجے تک کھا لیتے ہیں آٹھ-نو بجے تک بستر میں ہوتے ہیں اور صبح پانچ بجے بیدار ہو جاتے ہیں بڑے سے بڑا ڈاکٹر چھ بجے صبح ہسپتال میں موجود ہوتا ہے پورے یورپ امریکہ جاپان آسٹریلیا اورسنگاپور میں کوئی دفتر، کارخانہ، ادارہ، ہسپتال ایسا نہیں جہاں اگر ڈیوٹی کا وقت نو بجے ہے تو لوگ ساڑھے نو بجے آئیں !
آجکل چین دنیا کی دوسری بڑی طاقت بن چکی ہے پوری قوم صبح چھ سے سات بجے ناشتہ اور دوپہر ساڑھے گیارہ بجے لنچ اور شام سات بجے تک ڈنر کر چکی ہوتی ہے

اللہ کے احکام کسی کیلئے نہیں بدلتے- اسکا کوئی رشتہ دار نہیں_ نہ اس نے کسی کو جنا، نہ کسی نے اس کو جنا
جو محنت کریگا تو وہ کامیاب ہوگا
عیسائی ورکر تھامسن میٹکاف سات بجے دفتر پہنچ جائیگا تو دن کے ایک بجے تولیہ بردار کنیزوں س چہرہ صاف کروانے والا، بہادر شاہ ظفر مسلمان بادشاہ ہی کیوں نہ ہو’ ناکام رہے گا
اسلام آباد مرکزی حکومت کے دفاتر ہو ں یا صوبوں کے دفاتر یا نیم سرکاری ادارے، ہر جگہ لال قلعہ کی طرز زندگی کا دور دورہ ہے، کتنے وزیر, کتنے سیکرٹری, کتنے انجینئر, کتنے ڈاکٹر, کتنے پولیس افسر, کتنے ڈی سی او, کتنے کلرک صبح آٹھ بجے ڈیوٹی پر موجود ہوتے ہیں؟ کیا اس قوم کو تباہ وبرباد ہونے سے دنیا کی کوئی قوم بچا سکتی ہے- کوئی اس پر فخر کرتا ہے کہ وہ دوپہر کو اٹھتا ہے لیکن سہ پہر تک ریموٹ کنٹرول کھلونوں سے دل بہلاتا ہے ، جبکہ کچھ کو اس بات پر فخر ہے کہ وہ دوپہر کے تین بجے اٹھتے ہیں، کیا اس معاشرے کی اخلاقی پستی کی کوئی حد باقی ہے.
– جو بھی کام آپ دوپہر کو زوال کے وقت شروع کریں گے وہ زوال ہی کی طرف جائے گا. کبھی بھی اس میں برکت اور ترقی نہیں ہو گی.

-اور یہ مت سوچا کریں کے میں صبح صبح اٹھ کر کام پر جاؤں گا تو اس وقت لوگ سو رہے ہونگے میرے پاس گاہک کدھر سے آئے گا

!!! گاہک اور رزق اللہ رب العزت بھیجتے ہیں – مگر جب آپ وہاں ھوں تو

کعبہ کے گرد گھومنے سے پہلے کسی غریب کے گھر گھوم آؤ

🚨نیا فتنہ🚨

آج کل کچھ لبرلز اور نام نہاد دانشور بڑے زور و شور سے واویلا کر رہے ہیں کہ، کعبہ کے گرد گھومنے سے پہلے کسی غریب کے گھر گھوم آؤ۔۔۔

مسجد کو قالین نہیں کسی بھوکے کو روٹی دو۔۔۔

حج اور عمرہ پر جانے سے پہلے کسی نادار کی بیٹی کی رخصتی کا خرچہ اٹھاؤ۔۔۔

تبلیغ میں نکلنے سے بہتر ہے کہ کسی لاچار مریض کو دوا فراہم کر دو۔۔۔

مسجد میں سیمنٹ کی بوری دینے سے افضل ہے کہ کسی بیوہ کے گھر آٹے کی بوری دے آؤ۔۔۔

یاد رکھیں۔۔۔ 👇

دو نیک اعمال کو اس طرح تقابل میں پیش کرنا کوئی دینی خدمت یا انسانی ہمدردی نہیں بلکہ عین جہالت ہے۔
اگر تقابل ہی کرنا ہے تو دین اور دنیا کا کرو اور یوں کہو !

15 ، 20 ﻻکھ ﮐﯽ ﮔﺎﮌﯼ ﺍﺱ ﻭﻗﺖ لو ﺟﺐ ﻣﺤﻠﮯ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﻮﮐﺎ ﺳﻮﻧﮯ ﻭﺍﻻ ﮐﻮﺋﯽ ﻧﮧ ﮨﻮ ۔۔۔

50 ، 60 ﮨﺰﺍﺭ ﮐﺎ ﻣﻮﺑﺎﺋﻞ ﺍﺱ ﻭﻗﺖ لو ﺟﺐ ﻣﺤﻠﮯ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯿﮏ ﻣﺎﻧﮕﻨﮯ ﻭﺍﻻ ﮐﻮﺋﯽ ﻧﮧ ﮨﻮ ۔۔۔

ﮨﺮ ﮐﻤﺮﮮ ﻣﯿﮟ ﺍﮮ ﺳﯽ ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﻟﮕﻮﺍؤ ﺟﺐ گرمی میں بغیر بجلی کے سونے والا کوئی نہ ہو ۔۔۔

ﺑﺮﺍﻧﮉﮈ ﮐﭙﮍﮮ ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﺧﺮﯾﺪو ﺟﺐ ﺳﮍﮎ ﭘﺮ ﭘﮭﭩﮯ ﮐﭙﮍﮮ ﭘﮩﻨﻨﮯ ﻭﺍﻻ ﮐﻮﺋﯽ ﻧﮧ ﮨﻮ ۔۔

یہ کروڑوں کی گاڑیاں ، لاکھوں کے موبائل فونز اورہزاروں کے کھلونے خریدتے وقت ان دانشوروں کو زحمت گوارا کیوں نہیں ہوتی۔۔۔؟

آخر یہ چڑ کعبہ مسجد حج وعمرہ اور تبلیغ ہی سے کیوں ہے۔۔۔؟

ان ضروریات کا فرائض سے موازنہ کر کے فرائض سے غفلت کا درس دینے والے جب اپنی شادیوں پر عورتیں نچاتے ہیں تب ان کو کیوں یاد نہیں ہوتا کہ وہ بھی کسی کی بیٹیاں اور بہنیں ہیں…
ہزاروں آرام دہ اشیاء خریدتے وقت ان کو غریب کی بن بیاہی بیٹیاں نظر کیوں نہیں آتی ہیں؟




اجنبی شخص اور ہوائی جہاز کا سفر

میں نے کھانے کی ٹرے کھولی کانٹے سے گوشت کا ٹکڑا اٹھایا ہونٹوں کے قریب لے کر آیا مگر منہ میں ڈالنے سے قبل رک گیا۔ مجھے محسوس ہوا یہ گوشت شاید حلال نہ ہو میں نے یہ خیال آتے ہی کانٹا ٹرے میں رکھ دیا اور دائیں بائیں دیکھنے لگا غیر ملکی ائیر لائینز میں یہ معاملہ روٹین ہے

یہ لوگ حلال حرام کی تمیز نہیں رکھتے چنانچہ ان کی خوراک بالخصوص گوشت میں حرام کی گنجائش موجود ہوتی ہے۔ میں نے ٹرے آگے کھسکائی اور سیٹ کے ساتھ پشت لگا کر لیٹ گیا۔

میرے ساتھ درمیانی عمر کا ایک خوبصورت امریکی بیٹھا تھا۔ وہ مزے سے کھانا کھا رہا تھا ہم نیویارک سے شکاگو جا رہے تھے۔ میں نے ایک دن شکاگو میں رک کر آگے نکل جانا تھا۔

آپ کو انٹرنیٹ پر مختلف ”پے اینگ“ میزبان مل جاتےمل جاتے ہیں۔ آپ ویب سائیٹس پر جائیں اور کسی منزل کا نام ڈالیں۔ آپ سے مختلف فیملیز رابطہ کریں گی۔ یہ لوگ معمولی رقم لے کر آپ کو چند دنوں کےلئے اپنے گھر میں ٹھہرا لیتے ہیں۔ آپ کو ان ویب سائیٹس پر ایسی فیملیز بھی مل جاتی ہیں جو آپ کو اپنے پاس فری ٹھہرا لیتی ہیں۔ ان کا مقصد اجنبی لوگوں سے ملاقات ہوتی ہے۔ یہ لوگ اجنبیوں کو اپنا گھر اپنا ٹاﺅن دکھانا چاہتی ہیں چنانچہ یہ لوگ اپنا گھر سال میں چند دنوں کےلئے اجنبیوں کےلئے کھول دیتے ہیں۔

میں نے شکاگو سے دو گھنٹے کی مسافت پر ایک گاﺅں میں ایسا ہی خاندان تلاش کیا تھا۔ یہ لوگ مکئی کاشت کرتے تھے اور سال میں ایک بار کسی ایشیائی باشندے کو اپنا مہمان بناتے تھے۔

میں نے انٹر نیٹ پر اس خاندان کو تلاش کیا اور اب میں نیویارک سے ان کے پاس ٹھہرنے اور شکاگو کی دیہاتی زندگی کو انجوائے کرنے جا رہا تھا لیکن جہاز میں حلال خوراک کا ایشو بن گیا۔

میں نے لمبی سانس لی اور آنکھیں بند کر لیں ” برادر یہ کھانا حلال ہے آپ کھا سکتے ہیں“ ۔ یہ فقرہ اچانک میری سماعت سے ٹکرایا میں نے گھبرا کر آنکھیں کھولیں میرا ہم سفر امریکی مسکراتی نظروں سے میری طرف دیکھ رہا تھا۔ اس نے میری آنکھوں میں حیرت پڑھ لی وہ دوبارہ بولا آپ کا کھانا حلال ہے۔
آپ اطمینان سے کھا سکتے ہیں۔

میں نے اس سے پوچھا آپ یہ دعوے سے کیسے کہہ سکتے ہیں۔

اس نے اپنا کانٹا نیچے رکھا میری ٹرے سے کھانے کا ریپر اٹھایا اور اس کے کونے پر انگلی رکھ دی۔ ریپر پر سبز لفظوں میں حلال لکھا تھا۔

میں حیران ہو گیا میں نے اطمینان سے کھانا شروع کر دیا کھانے کے دوران میں نے اس سے اس کے وطن کے بارے میں پوچھا اس نے جواب دیا ” میں امریکی ہوں‘ آرلینڈو میں رہتا ہوں“

میں نے ڈرتے ڈرتے پوچھا ” کیا آپ مسلمان ہیں“ اس نے بلند آواز میں ”الحمد اللہ“ کہا اور پھر بولا ” میں نے سات سال قبل اسلام قبول کیا تھا” میں آج کل عربی سیکھ رہا ہوں“

میری حیرت میں اضافہ ہو گیا میں نے اس سے پوچھا ” لیکن امریکن ائیر لائین میں حلال کھانا کیسے آ گیا“
وہ مسکرایا اور نرم آواز میں بولا ” میں جب بھی ہوائی سفر پر نکلتا ہوں میں ائیر لائین کے کچن میں فون کر کے پانچ حلال کھانوں کا آرڈر کر دیتا ہوں“ میں نے پوچھا ” پانچ کیوں؟“

اس کا جواب بہت دلچسپ تھا ۔

اس کا کہنا تھا ” امریکن ائیر لائین میں عموماً چار پانچ مسلمان مسافر ہوتے ہیں ۔ میں مسلمان ہونے کی وجہ سے ان کا مسئلہ سمجھتا ہوں۔ میں جہاز میں سوار ہو کر عملے کی مدد سے مسلمان مسافروں کو تلاش کرتا ہوں اور بعد ازاں یہ حلال کھانا انہیں پہنچا دیتا ہوں۔ میں جب فلائیٹ میں سوار ہوا تو میں نے لسٹ میں آپ کا نام پڑھ لیا چنانچہ میں نے آپ کےلئے حلال خوراک کی درخواست کر دی اور یوں آپ کو بھی حلال کھانا فراہم کر دیا گیا“

میں نے اس سے پوچھا ”لیکن جہاز کا عملہ آپ کو مسافروں کی لسٹ کیوں دے دیتا ہے؟“

اس نے قہقہہ لگایا اوربتایا ”میں ایف بی آئی میں کام کرتا ہوں ۔ میرا سروس کارڈ یہ مرحلہ آسان بنا دیتا ہے“۔

وہ عبداللہ تھا۔ اس کا پرانا نام ایڈم تھا۔ وہ آرلینڈو کا رہنے والا تھا مگر ان دنوں وہ نیویارک میں کام کر رہا تھا، ٹریننگ کےلئے شکاگو جا رہا تھا۔ اس کے اسلام قبول کرنے کا واقعہ بھی اس کی شخصیت کی طرح حیران کن تھا۔ اس نے بتایا، وہ ٹیلی کام انجینئر تھا،
وہ ایک پرائیویٹ کمپنی میں کام کرتا تھا، اس کی والدہ کا انتقال ہو چکا تھا۔ والد دہریہ تھا، وہ بوڑھا ہو کر اولڈ پیپل ہوم میں پڑا تھا ۔

اس کا اپنی گرل فرینڈ کے ساتھ جھگڑا ہوا، یہ جھگڑا طول پکڑ گیا، وہ شدید ڈپریشن کا شکار ہوا اور اس ڈپریشن نے اسے شراب،کوکین اور چرس کا عادی بنا دیا۔ وہ چوبیس گھنٹے نشے میں ڈوبا رہتا، اس کی راتیں شراب خانوں میں گزرتیں، وہ دھت ہو کر شراب خانے میں گر جاتا اور شراب خانے کے ملازمین اسے اٹھا کر فٹ پاتھ پر پھینک جاتے، وہ اگلے دن اٹھتا تو گرتا پڑتا گھر پہنچتا۔

اس کی نوکری چلی گئی،اس کے سارے اثاثے بک گئے،اس پر دوست احباب کا قرض چڑھ گیا اور وہ پوری دنیا میں تنہا رہ گیا، وہ بری طرح برباد ہو چکا تھا لیکن پھر اس کے ساتھ ایک عجیب واقعہ پیش آیا،
وہ ایک رات نشے میں دھت ہو کر شراب خانے میں گرا شراب خانے کے سٹاف نے اسے اٹھایا اور فٹ پاتھ پر لٹا دیا،

وہاں سے ایک نوجوان گزرا اس نے اسے اٹھایا وہ اسے اپنے فلیٹ میں لے آیا، گرم تولئے سے اس کا جسم صاف کیا صاف سلیپنگ سوٹ پہنایا اور اسے صاف بستر پر لٹا دیا صبح اس کی آنکھ کھلی تو اس نوجوان نے اسے ناشتہ کرایا، اپنے کپڑے پہنائے اور اسے اس کے فلیٹ پر چھوڑ آیا، وہ اس رات دوبارہ شراب خانے گیا، اسے اس رات بھی حسب معمول فٹ پاتھ پر لٹا دیا گیا، وہ نوجوان دوبارہ آیا، اسے اٹھایا اور اپنے فلیٹ پر لے گیا اور اس کے بعد یہ معمول بن گیا، وہ روز رات کے آخری پہر فٹ پاتھ پر گرا دیا جاتا، وہ نوجوان آتا اور اسے اٹھا کر لے جاتا،

یہ اس اجنبی نوجوان کے ساتھ بدتمیزی بھی کرتا لیکن وہ ہٹ کا پکا تھا، وہ مسکراتا رہتا اور اس کی خدمت کرتا رہتا، اس سارے عمل کے دوران معلوم ہوا، وہ نوجوان فلسطینی مسلمان ہے۔ وہ پیزا ہٹ پر کام کرتا ہے اور فارغ وقت میں اس بگڑے ہوئے امریکی کی خدمت کرتا ہے۔

یہ سلسلہ چلتا رہا یہاں تک کہ وہ دونوں دوست بن گئے۔ ایڈم فلسطینی نوجوان عبداللہ کے رویئے اور خدمت سے متاثر ہوا اور آہستہ آہستہ اسلام کے حلقے میں داخل ہونے لگا اور پھر ایک دن اس نے اسلام قبول کر لیا۔

یہ اس کہانی کا ایک باب تھا۔

کہانی کا اگلا باب اس سے بھی زیادہ حیران کن تھا۔
ایڈم نے اسلام قبول کرنے کے بعد اپنا نام عبداللہ رکھا اور اسلام کا مطالعہ شروع کر دیا، مطالعے کے دوران اسے معلوم ہوا اسلام میں والدین کا بہت مقام ہے۔
والدین کی خدمت کرنے والے لوگ جنتی ہوتے ہیں۔
یہ معلوم ہونے کے بعد عبداللہ سیدھا اولڈ پیپل ہوم گیا اور اپنے والد کو اپنے گھر لے آیا، اس کا والد کینسر کے مرض میں مبتلا ہو چکا تھا۔ وہ دہریہ تھا وہ کسی مذہب اور خدا پر یقین نہیں رکھتا تھا، اس نے پوری زندگی کوئی عبادت کی اور نہ ہی کسی مذہب کا مطالعہ۔ اس نے بس گستاخی میں پوری عمر گزار دی،
عبداللہ ایڈم والد کو گھر لے آیا اور اس نے والد کی خدمت شروع کر دی ۔

وہ ایک سٹور میں چار گھنٹے کام کرتا اور اس کے بعد گھر آ کر اپنے فلسطینی دوست کے ساتھ مل کر والد کو نہلاتا تھا، وہ اسے اپنے ہاتھوں سے کھانا بھی کھلاتا تھا۔ اسے ویل چیئر پر بٹھا کر سیر کے لئے بھی لے جاتا تھا۔ وہ اسے کتابیں پڑھ کر سناتا تھا اور اس کی باتیں سنتا تھا۔

والد کےلئے یہ رویہ عجیب تھا۔ امریکا میں بچے اپنے والدین کے ساتھ یہ سلوک نہیں کرتے، وہاں والدین کی آخری عمر ہمیشہ تنہائی اور اولڈ پیپل ہوم میں گزرتی ہے لیکن نو مسلم عبداللہ نے یہ روایت بدل دی۔
اس نے والد اور والد کے دوستوں کو حیران کر دیا۔
یہ سلسلہ چلتا رہا یہاں تک کہ والد کینسر کی آخری سٹیج پر پہنچ کر ہسپتال داخل ہو گیا۔

عبداللہ ہسپتال میں بھی والد کی خدمت کرتا رہا،
اس خدمت کا یہ نتیجہ نکلا اس کا وہ والد جس نے زندگی بھر اللہ کے سامنے سر نہیں جھکایا تھا، اس نے انتقال سے چھ ماہ قبل اسلام قبول کر لیا۔ وہ ایمان کی حالت مین دنیا سے رخصت ہوا،

والد کے انتقال کے بعد عبداللہ نے مختلف جابز کیں، وہ ان نوکریوں سے ہوتا ہوا ایف بی آئی میں پہنچ گیا۔
وہ اس وقت میرے ساتھ بیٹھا تھا، وہ مسلمان تھا مگر اس کا حلیہ مسلمانوں جیسا نہیں تھا، وہ حلئے سے امریکی لگتا تھا۔ میں نے اس سے پوچھا ”آپ نے داڑھی کیوں نہیں رکھی“ اس نے اس سوال پر ایک عجیب انکشاف کیا!

اس نے بتایا ”ہم نے امریکا میں تبلیغ کا ایک نیٹ ورک بنا رکھا ہے، ہم لوگ اپنا حلیہ نہیں بدلتے ہم امریکا میں امریکی بن کر زندگی گزارتے ہیں ہم غیر مسلموں کو صرف اپنے رویئے خدمت اور محبت سے مسلمان بناتے ہیں“

میں نے اس سے عرض کیا “لیکن آپ یہ کام داڑھی رکھ کربھی کرسکتے ہیں”۔

عبداللہ نے قہقہہ لگایا اور جواب دیا ”ہاں لیکن ہمارا خیال ہے ہم نے اگر اسلامی حلیہ اپنا لیا تو شاید امریکی لوگ ہمارے قریب نہ آئیں اور تبلیغ کیلئے دوسرے فریق کا آپ کے قریب آنا ضروری ہوتا ہے“۔

میں نے اس سے پوچھا آپ کی یہ تکنیک کس حد تک کامیاب ہوئی۔ اس نے ہنس کر جواب دیا ” ہم الحمداللہ اس تکنیک سے سینکڑوں لوگوں کو مسلمان بنا چکے ہیں”۔

تحریر بشکریہ ۔
جاوید چوھدری




Diligent Pakistani Cleaner Of Kaaba Wanted To Pray In Hateem

خانہ کعبہ میں صفائی ستھرائی کا کام انجام دینے والے پاکستانی کو بہترین کارکردگی پیش کرنے پر حجر اسماعیل میں نماز پڑھنے کی اجازت مل گئی۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق مسجد حرام کی انتظامیہ نے صفائی ستھرائی کو یقینی بنانے میں بہترین کارکردگی پیش کرنے پر پاکستانی شہری کو انعامی رقم دینے کا فیصلہ کیا لیکن پاکستانی شخص نے انعامی رقم لینے سے انکار کر دیا۔ اُس شخص نے مسجد حرام کی انتظامیہ سے درخواست کی کہ اسے ان پیسوں کے بجائے حجر اسماعیل (حطیم ، جو کعبے کا حصہ ہے) میں نماز پڑھنے کی اجازت دی جائے۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر تیزی سے مقبول ہوتی تصویر میں دیکھا جا سکتا ہے خانہ کعبہ کی انتظامیہ کی جانب سے حجر اسماعیل کو پاکستانی شہری کی درخواست پر خالی کروا کرخصوصی طور پر دروازے بند کئے گئے ہیں تاکہ وہ عبادت کر سکے۔




تربیت اولاد کا انوکھا انداز

تربیت اولاد کا انوکھا انداز

ایک شخص کا کہنا ہے :
میری امی جب بھی مجھے نماز پڑھنے کا کہتی ساتھ ہی میرے لئے دعا بھی کرتی جاتی اور
کہتی :
نماز پڑھو اللہ تمہیں عزت دیں۔
اللہ تمہیں نماز کی حلاوت نصیب کریں،
اللہ تمہیں توفیق دیں۔
اسی لئے بچپن سے ہی میرے اندر نماز کی محبت پیدا ہو گئی، مجھے نماز پڑھنا اچھا لگنے لگا ، اور میں اپنی ماں کی اپنے لئے دعائیں سننے کے لئے نماز کا انتظار کرتا رہتا۔
میں اپنی ماں کو دیکھتا تھا کہ وہ ہر نماز کے بعد اللہ سے دعا مانگتی :
اے اللہ ! میرے بیٹے کو نماز سے لطف اندوز ہونے والوں میں شامل فرما،
اے اللہ! نماز کو میرے بیٹے کی آنکھوں کی ٹھنڈک بنا دے۔
وہ اسی طرح دعائیں مانگتی رہی ۔ اور جب میں بڑا ہو گیا تو میری زندگی کے سب سے خوبصورت لمحات وہی ہوتے تھے جب میں اپنے رب کے سامنے کھڑا ہوتا تھا۔ مجھے نماز سے بہت محبت تھی۔
اپنے بچوں سے صرف ایک لفظ ” نماز پڑھو ” یہ کہنا کافی نہیں ہوتا ، بلکہ انکو ساتھ یہ بتانا بھی ضروری ہے کہ نماز کیوں پڑھی جائے ، نماز پڑھنے سے کیا ہوگا ؟
جیسے قرآن پاک میں اللہ تعالی نے جب حضرت آدم و حواء علیہما السلام سے یہ فرمایا کہ اس درخت کے قریب نہ جانا تو ساتھ اسکی وجہ بھی بیان کی۔
قال اللہ تبارک و تعالی :
{{لاَ تَقرَبا هذِهِ الشَّجَرَةَ فَتَكونَا مِنَ الظَّالِمِين}}
اس درخت کے قریب نہ جانا ورنہ تم دونوں ظالموں میں سے ہو جائو گے۔
جب بھی اپنے بچوں کو کسی کام کا حکم کریں ساتھ اسکی وجہ بھی بتائیں جیسے نماز پڑھنے سے اللہ راضی ہوتے ہیں ۔
تم بھی نماز پڑھو تاکہ اللہ تم سے راضی ہو جائیں۔
اور خشوع و خضوع سے نماز پڑھو کیونکہ اللہ ایسی نماز قبول کرتے ہیں۔
اور اسی طرح وضو اچھی طرح کرو تاکہ تمہارے سارے گناہ جھڑ جائیں۔
ہمیشہ مسکرا کر اپنے بچے کو اپنے ساتھ نماز کے لئے بلائیں ۔
ایک منظر جو میں آج تک نہیں بھولا:
میرے والد جب بھی نماز کا وقت آتا وضو کرنے کے لئے اپنی آستین اوپر چڑھاتے ہوئے ہمارے پاس سے گزرتے اور فرماتے :
“مومن اور کافر کے درمیان فرق نماز سے ہے” ۔
یہی وجہ ہے کہ نماز میری زندگی کا ایک ایسا جزو بن گیا جس کے بغیر میری زندگی ممکن ہی نہیں ۔
” رَبِّي اجْعَلْنِي مُقِيمَ الصّلاةِ وَ مِن ذُرِّيَّتِي “




Conor McGregor vs Khabib Nurmagomedov

“دنیائے مسلم کا عظیم ستارا”

گزشتہ روز امریکہ کے شہر لاس ویگاس میں UFC کے تحت تاریخ ساز فائٹ لڑی گئی جس میں روسی مسلمان مارشل آرٹسٹ حبیب نورماگومدوف اور آئرش مارشل آرٹسٹ کانر مک گریگر مدِ مقابل تھے۔

یہ تاریخ کا ایک انوکھا مقابلہ تھا۔کانر مک گریگر کو دنیا کا خطرناک ترین مارشل آرٹسٹ اور ناقابلِ شکست تصور کیا جاتا ہے۔لیکن جتنا اچھا وہ فائیٹر ہے اتنا ہی شرپسند اور گالم گلوچ کرنے والا شخص ہے۔مک گریگر کی جانب سے مسلسل حبیب کے مذہب اسلام،خاندان اور ذات کو لے کر حقارت آمیز بیانات آرہے تھے۔ایک پریس کانفرنس میں مک گریگر نے حبیب کو شراب کی بوتل دکھا کر کہا “یہ لو پیو۔” جس پر حبیب نے کہا ہم شراب نہیں پیتے۔اس پر حبیب کا مذاق اڑایا گیا۔

مک گریگر طاقت کے نشے میں چور تھا اور حبیب کو کہہ رہا تھا کہ تم میرے سامنے چیونٹی سے زیادہ حقیر ہو اور اس فائٹ کے بعد اپنی ہڈیاں سلامت لے کر واپس  ہیں جاؤ گے۔ اس کے جواب میں حبیب نورماگدوف کا ایک ہی جواب ہوتا تھا “الحمد اللہ۔۔۔!! میرے ساتھ میرا اللہ ہی کافی ہے۔” ان سب بیانات کی ویڈیوز یو ٹیوب پر موجود ہیں۔

آج جب یہ مقابلہ شروع ہوا تو لاکھوں مداحوں کے دل کی دھڑکنیں رک سی گئی تھیں۔تمام مسلم دنیا کی نظریں حبیب پر مرکوز تھیں کیونکہ اسلام کا مذاق اڑانے کے بعد یہ مقابلہ صرف کھیل سے کہیں آگے بڑھ چکا تھا۔ یہاں جو مارشل آرٹس سے نا واقف ہیں انہیں یہ بتاتا چلوں کہ یہ عام باکسنگ سے کہیں زیادہ خطرناک ہے۔اس میں Freestyle Kicking & Punching ہوتی ہے اور کچھ سپیشل داؤ اتنی خطرناک ہوتی ہیں کہ کبھی کبھی فائیٹرز کی ہڈیاں ٹوٹ جاتی ہیں اور ایسے میچز بھی ہوئے ہیں جن میں فائیٹرز کی موت بھی واقع ہوئی ہے۔اس لیے یہ کھیل بہت خطرناک ہے۔

خیر مقابلہ شروع ہوا تو ساری دنیا حیران رہ گئی جب ناقابلِ شکست اور خطرناک سمجھے جانے والے کانر مکگریگر کو حبیب نورماگدوف نے بری طرح سے پیٹا اور چوتھے راؤنڈ میں ہی مک گریگر کی گردن ایسے دبوچی کہ اس نے Tap Out کرکے ہار تسلیم کر لی۔

یہ مارشل آرٹس کی تاریخ کی ایک عظیم فتح ہے۔خصوصاً مسلم دنیا کیلئے کیونکہ ایک مسلمان فائیٹر نے ایک ناقابلِ تسخیر دشمن کا غرور خاک میں ملا دیا ہے۔ مقابلہ جیتنے کے بعد حبیب کو جب پھر سے مک گریگر کے کوچ کی جانب سے چند نازیبا الفاظ سے پکارا گیا تو اس بار وہ اپنے غصے کو قابو میں نہ رکھ سکا اور میدان سے کود کر اکیلا ہزاروں کے مجمے میں پہنچا اور مک گریگر کے ساتھیوں کو پیٹ ڈالا۔

انٹرنیشنل میڈیا کو بیان دیتے ہوئے اپنے اس رویے پر حبیب نے معذرت کی ہے لیکن ساتھ میں یہ بھی کہا ہے کہ مقابلہ جیتنے کے بعد مخالف ٹیم پر حملہ کرنا میری روایت کے خلاف ہے۔آج آپ کو میرا حملہ کرنا تو نظر آ رہا ہے لیکن یہ نہیں نظر آتا کہ مک گریگر نے میرے مذہب کا،میرے والد کا اور میری قوم کا مذاق اڑایا۔مک گریگر اور اس کے ساتھیوں نے ہماری بس پہ بھی حملہ کیا۔میں بحیثیت انسان خود پہ کتنا کنٹرول کرتا؟؟؟

خیر مک گریگر نے جو غرور کیا اس کا سر ایک مسلمان جانباز نے توڑ کر رکھ دیا اور تمام دنیا کو یہ بتا دیا کہ کسی مسلمان کا مذاق اڑانا انہیں کتنا مہنگا پڑ سکتا ہے۔

اس تاریخ ساز وکٹری پر باکسنگ کے عظیم ستارے “محمدعلی مرحوم” کے بعد ایک اور مسلمان ستارا “حبیب نورماگدوف” مارشل آرٹس کے میدان میں ابھر آیا ہے۔اللہ ہمیشہ حبیب کو کامیابی سے نوازے۔




Gary Miller: The Man Who Challenged the Qur’an

In 1977, Professor Gary Miller, the active Canadian preacher and mathematics and logic lecturer at Toronto University, decided to provide a great service to Christianity through exposing scientific and historical errors in the Noble Qur’an in such a way that would be beneficial to him and his fellow preachers in calling Muslims to Christianity. However, the result was completely to the contrary.

Miller’s writings were fair and his study and comments were positive, even better than many Muslims would write about the Noble Qur’an. He considered the Noble Qur’an, as it should be and reached the conclusion that it cannot be a work of a human being.

The first surprising issue for Professor Miller was the challenging tone in many verses of the Qur’an such as the verses that can be translated as:

Will they not then contemplate the Qur’an? And if it had been from (anywhere) other than the Providence of Allah, indeed they would have found in it many difference(s). (An-Nisa’ 4:82)

And in case you are suspicious about what We have been sending down upon Our bondman, (i.e., the Prophet himself) then come up with a surah of like (manner), and invoke your witnesses, apart from Allah, in case you are sincere. (Al-Baqarah 2:23)

Although Professor Miller was challenging at the beginning, he ended astonished at what he found. The following are some of the points he mentioned in Miller’s lecture “The Amazing Qur’an”:

There is no such author who writes a book and then challenges others that this book is errorless. As for the Noble Qur’an, it is the other way round. It tells the reader that there are no errors in it and then challenges all people to find any, if any.

The Noble Qur’an does not mention the hard events in Prophet Muhammad’s personal life, such as the death of his dear wife Lady Khadijah (may Allah be pleased with her), death of his daughters and sons. Strangely enough, the verses that were revealed as a comment on some of the setbacks proclaimed victory while those revealed at time of victory warned against arrogance and called for more sacrifices and efforts.

If one writes his own autobiography, he would magnify the victories and justify the defeats. The Noble Qur’an did the opposite and this is consistent and logical: it was not a history of a specific period but rather a text that sets general rules for the relationship between Allah (the Almighty) and worshippers.

Miller thought about a particular verse that can be translated as:
“Say, “Surely I admonish you with one (thing) only, that you rise up to Allah by twos and singly; thereafter meditate: in no way is there any madness in your Companion. Decidedly he is nothing except a constant warner to you, before a strict torment.” (Saba’ 34:46)

He indicated the experiments one researcher had carried out at Toronto University on “Effectiveness of Collective Discussion”. The researcher had gathered different numbers of interlocutors in discussions and compared results. He discovered that the maximum efficiency of the discussion was achieved when the interlocutors were two while the more the number the less the efficiency. There is a surah in the Noble Qur’an called Maryam (Mary) in which Lady Maryam (may Allah be pleased with her) is eulogized in a way not even found in the Bible. At the same time, there is no surah in the name of Lady `A’ishah (may Allah be pleased with her) or Lady Fatimah (may Allah be pleased with her). The name of prophet Isa (peace be upon him) (Jesus) is mentioned 25 times in the Noble Qur’an while the name of Prophet Muhammad (peace be upon him) is mentioned only five times.

Some attackers say that devils used to dictate to Prophet Muhammad (peace be upon him) what to write in the Noble Qur’an. But the question is how could this be while it contains verse that can be translated as:
And the devils have not brought the revelation down. It is not allowable for them, nor would they be able. (Ash-Shu`ara’ 26:210-211)

So when you recite the Qur’an, [first] seek refuge in Allah from Satan, the expelled [from His mercy]. (An-Nahl 16:98)
If you were in the situation of the Prophet (peace be upon him) while he and Abu-Bakr (may Allah be pleased with him) were inside the Cave of Hira’ surrounded by the unbelievers who could have seen them if they had looked down. The human reaction would be to search for a back exit or some other way out or to shush in order not to be heard. However, the Prophet (peace be upon him) told Abu Bakr (may Allah be pleased with him): Grieve not; surely Allah is with us. (At-Tawbah 9:40)

This is not the mentality of a deceiver; it is the mentality of a prophet who has the confidence that Allah (the Almighty) would surely take care of him.

Surat Al-Masad was revealed ten years before the death of Abu-Lahab, the Prophet’s uncle. He had ten complete years to prove that the Noble Qur’an was wrong. However, he did not believe or even pretend to believe. How could the Prophet (peace be upon him) be that confident unless he was sure that the Noble Qur’an was Allah’s (the Almighty) revelation?
Commenting on the verse:

That is from the news of the unseen which We reveal to you, [O Muhammad]. You knew it not, neither you nor your people, before this. So be patient; indeed, the [best] outcome is for the righteous. (Hud 11:49)

Miller writes that none of the Scriptures uses this kind of style; that is, giving the reader the piece of information and then tells him it is new information. It is really a unique challenge. What if the people of Makkah, even by pretense, had said they knew that before? What if one scholar discovered later that this information was already known before? However, this did not happen.

Professor Miller mentioned what Contemporary Catholic Encyclopedia includes under the entry ‘Qur’an’. It mentions that despite the plethora of studies, theories, and attempts to attack the veracity of Qur’anic revelation under many pretexts none of them can be logically adopted. The Church itself did not dare to adopt any of such theories but at the same time it did not admit the truthfulness of the Muslims’ theory that the Noble Qur’an is, without doubt, the last heavenly revelation.
In fact, Professor Miller was fair enough and was honest enough to change his position and choose the right way. Blessed be he and those who search for truth and do not allow their prejudices to prevent them from reaching it.

Final Comment

In 1977, Professor Miller had a famous debate with Islamic preacher Ahmad Deedat. His logic was clear and his justifications seemed based on intent to reach the truth without pride or prejudice. Many wished at the time that this man would embrace Islam.

In 1978 Professor Miller embraced Islam and called himself Abdul-Ahad . He worked for some years at Oil and Minerals University in Saudi Arabia and then devoted his life to Da`wah through TV programs and public lectures.
Just think and do not let your prejudices prevent you from the right path.




جب کعبہ کا غلاف ہٹا

گذشتہ رات طوفانی ہواؤں کی وجہ سے خانہ کعبہ کا غلاف اپنی جگہ سے ہٹ گیا اور ہم نے وہ دیکھا جو اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا۔

کعبہ شریف کا دوسرا دروازہ جسکی تعمیر حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے زمانہ میں ہوئی تھی اسکے واضح نشانات (لال رنگ کے خانے میں) کعبہ کی دیوار پر کندہ ہیں..

سن 64 ہجری میں جب حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کو خلیفہ منتخب کیا گیا تو آپ نے اسکی تعمیر کروائی
اس تعمیر کا اہتمام حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی اس روایت پر کیا گیا جس میں وہ فرماتی ہیں کہ فتح مکہ کے موقع پر ایک دفعہ حضور پاک علیہ الصلاۃ والسلام نے فرمایا تھا کہ اگر میرے پاس کعبہ کی تعمیر کیلئے رقم ہوتی اور مجھے ان نو مسلموں کے بدکنے کا ڈر نہیں ہوتا تو میں حطیم میں سے پانچ بالش زمین کعبہ میں ضم کروادیتا اور کعبہ کا ایک دروازہ اور تعمیر کرواتا تاکہ ایک دروازہ سے زائرین داخل ہوں اور دوسرے دروازہ سے نکل سکیں.

لیکن بنو امیہ سن 73 ہجری حجاج بن یوسف کی قیادت میں جب دوبارہ مکہ پر قابض ہوئے تو انہوں نے موجودہ طرز پر کعبہ کی دوبارہ تعمیر کروائی اور حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کا تعمیر کردہ دروازہ بند کرادیا
جسکے بعد سے اب تک کعبہ کی تعمیر اسی طرز پر ہوتی رہی بلکہ بعد کے ادوار میں اسکی تزئین وآرائش پر بھی کافی دھیان دیا گیا.




Dying German man accepts Islam in emotional video

He recites the Shahada in the viral video on his deathbed.

A 75-year-old German man’s video has gone viral recently after he converted to Islam – on his deathbed.

According to reports, the ailing man in the video was gravely ill when he decided to accept Islam.

In the viral video, a Muslim man helps the German recite the Shahada (testimony):”There is no God but Allah, and Muhammad (PBUH) is His messenger.”

After the testimony, the man recording the video recites the call to prayer (azan) in his ear.

It is not known when and where the video was recorded, but it has garnered thousands of views online over the weekend, with netizens praying for the old convert.